
وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیر کابینہ کا اجلاس۔
اجلاس میں حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر معاشی ناہمواریوں کے تناظر میں وفاقی کابینہ کے فیصلوں کی توثیق۔
آزادجموں و کشمیر کابینہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کفایت شعاری پالیسی کے تحت آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کے زیر استعمال گاڑیوں میں پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال پر 50 فیصد کٹوتی کرنے کا فیصلہ۔
کابینہ فیصلے کے مطابق آئندہ دو ماہ کے لیے حکومت کے وزراء، مشیران، معاونین خصوصی تنخواہیں نہیں لیں گے، اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں سے 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔
آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے فیصلے کے مطابق 20 گریڈ اور اس سے اوپر کے ایسے سرکاری افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ سے زیادہ ہے، ان کی چار دن کی تنخواہ کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
آزاد کشمیر کے وزرا، مشیران، معاونین اور افسران کے غیرملکی دوروں پر مکمل پابندی ہو گی۔تمام سرکاری محکموں میں ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ایندھن کی بچت ممکن ہو سکے، سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر ون ڈش یقینی بنائی جائے گی ، سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے کانفرنسز ہوٹلوں کے بجائے سرکاری جگہوں پر ہی منعقد ہوں گی، ایندھن کی بچت کے لیے تمام سرکاری اور نجی اداروں میں بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
انتہائی ضروری سروسز اور شعبوں کو چھوڑ کر تمام سرکاری اور نجی اداروں میں 50 فیصد سٹاف گھر سے کام کرے گا، کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہفتے میں صرف چار دن دفاتر کھلیں گے، تیل کی بچت کے لیے ایک اضافی چھٹی دی جا رہی ہے تاہم اس کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہو گا۔
تمام سکولوں کو رواں ہفتے کے آخر سے دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جا رہی ہیں اور ہائر ایجوکیشن کے تمام اداروں میں آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
سکولوں کو 31 مارچ تک مکمل بند رکھا جائے گا تاہم ہائیر ایجوکیشن
سیکٹر میں دستیاب وسائل میں آن لائین کلاسز کا آغاز کیا جائے گا ۔

