MUZAFFARABAD (Kashmir English): The Azad Jammu and Kashmir (AJK) cabinet has approved the Education Package 2026, which includes a budget allocation of Rs 2.45 billion for schools and Rs 766.5 million for higher education.

Addressing the press conference along with ministers Dewan Ali Khan Chughtai and Malik Zafar, Most Senior Minister Mian Abdul Waheed Advocate appreciated the Higher Education Minister and its team for making continuous efforts for the approval of the historic package.

The minister for school education, Dewan Ali Khan Chughtai, said that the education package is basically a continuation of the National Education Policy, under which the shortage of educational institutions across the state and the discrepancy in the student-teacher ratio will be addressed.

He further said that under the package, the upgradation of educational institutions and the posts of teaching cadre have been approved as per the rationalization policy on the basis of need.

As per the details, 868 educational institutions will be upgraded, 259 posts will be made for the establishment of 182 new elementary and secondary schools, 2692 new posts will be created for the upgradation of the existing 653 schools, while 368 posts will be created in the existing 200 schools.

A total of Rs 2978.99 million will be spent on creating these posts, the minister said.

Higher Education Package

Moreover, Minister for Higher Education Zafar Iqbal Malik, while addressing the presser, said that for the first time in Azad Kashmir, the Higher Education Department has approved education under the Uniform Policy.

An education package worth Rs 766.4 million has been approved in ten districts of three divisions of AJK, he said.

Under the package, 726 new posts will be created under the Higher Education Department, including 356 posts in newly established colleges, 225 posts for the upgradation of colleges, and 142 posts in 142 existing institutions, which will incur a total expenditure of Rs 764.932 million.

A total of 09 new colleges will be established in three districts of Muzaffarabad division, worth Rs 187.5 million, and 162 new posts will be created.

Moreover, an amount of Rs 42.4 million has been approved for the upgradation of 06 institutions, and 43 posts have been created, while an amount of Rs 27.8 million has been approved for the creation of 30 additional posts in the existing institutions of Muzaffarabad division.

In addition, a total of seven new colleges will be established in four districts of the Poonch division, along with the creation of 126 new posts, totalling Rs 145.8 million. An amount of Rs 106.5 million has been approved for the upgradation of 14 institutions, and 104 posts will be created, while an amount of Rs 24 million has been approved for the creation of 30 additional posts in the existing institutions of the division.

The minister further said that a total of four colleges will be established in 13 districts of Mirpur division, worth Rs. 77.9 million, and 68 new posts will be created.

The cabinet has approved Rs 76.5 million for the upgradation of 11 institutions and creation of 81 posts, while Rs 66.7 million has been approved for the creation of 77 additional posts in the existing institutions of the division.

In response to a question, Zafar Malik said that the government has provided a huge amount to overcome the financial crisis of the University of Kashmir. For the first time in history, the Higher Education Department provided Rs 1.85 billion to the University of Kashmir.

Furthermore, the cabinet also approved a one-time grant of Rs 1042.6 million for the University of Azad Jammu and Kashmir (UAJK), Muzaffarabad, and Rs 188.8 million for Bagh University.

Meanwhile, the status of the Women’s University, which earlier only taught girls, is now being changed under the Azad Jammu and Kashmir Women’s University Bagh Amendment Act 2026, and its boys’ campus will be established.

 

 آزادجموں وکشمیر کابینہ نے تعلیمی پیکج 2026، ایڈہاک، عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کے عرصہ ملازمت میں مزید چھ ماہ کی توسیع،سکیل بی۔1کے ایڈھاک اور عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے ایکٹ 2026، سیکرٹریز سروس رولز 2023کی بحالی، چیئرمین ماحولیاتی ٹربیونل اورچیئرمین ایپلائنٹ ٹریبونل MDAکے اختیارات کی ڈسٹرکٹ وسیشن جج کو منتقلی، آزادجموں وکشمیر لیگل پریکٹیشنرز وبار کونسل ترمیمی ایکٹ 1995، انتہا پسند ی کے تدارک کے لیے سینٹر فار ایکسیلنس کے قیام کے لیے ایکٹ 2026کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے آزادجموں وکشمیر یونیورسٹی مظفرآباد اور یونیورسٹی آف باغ کو اضافی فنڈز کی فراہمی اور وویمن یونیورسٹی باغ کے سٹیٹس کی تبدیلی، لائبریرین کی آسامیوں پر ترقیابی کے لیے چاردرجاتی سروس سٹرکچر کی منطوری،نادراایکٹ 2025کو آزادکشمیر میں اپنانے اور توسیع کرنے،کابینہ کمیٹی کی سفارشات پر پرائیویٹ جنگلات سے لکڑی کی نکاسی کی منظوری بھی دیدی۔کابینہ نے 7.08میگا واٹ ریالی II-ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل، ٹرانسمیشن لائن اور ارتھ کنکشن کے لیے متعلقہ کمپنی کو اجازت دینے کے لیے الیکٹریسٹی ترمیمی ایکٹ 2026،آزادجموں وکشمیر پبلک پریکورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی ایکٹ 2026اور شہید پیکج میں ترمیم کرتے ہوئے اسے پنجاب کے برابرکرنے کے لیے ترامیم،انسپکٹر تجاوزات بی۔11کی آسامیوں کو اپ گریڈ کرتے ہوئے بی۔15کرنے، آزاد جموں و کشمیر فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2017اور آزادجموں وکشمیر تجوید القرآن ٹرسٹ ایکٹ 2014میں ترامیم کی بھی منظوری دیدی۔ محکمہ پولیس کے شہدا کوٹہ کے خلاف بھرٹی کے لیے زائد العمری کی درخواست پر منطوری دی گئی جبکہ میونسپل مجسٹریٹس،سینئر مجسٹریٹس اور ڈویثرن مجسٹریٹس بی۔18اور 19کی اپ گریڈیشن کے لیے سینئر وزیر و وزیر قانون کی زیر صدارت سب کمیٹی بنانے کی منظوری دیدی گئی۔

کابینہ نے میرپور انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو (میرپور یونیورسٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے بجائے MIMS University of Allied Health Sciences) کا درجہ دینے کی منظوری دیدی ۔

۔ آزادجموں وکشمیر کابینہ کا اجلاس جمعرات کے روز وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت وزیراعظم سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کابینہ اراکین کے علاوہ چیف سیکرٹری آزادکشمیر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور سیکرٹری صاحبان نے شرکت کی۔کابینہ سے منظور کردہ تعلیمی پیکج کے تحت محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے زیر اہتمام 726نئی آسامیاں تخلیق کی جائیں گی جن میں 356آسامیاں نئے قائم ہونے والے کالجز، 225کالجز کی اپ گریڈیشن اور 142موجودہ اداروں میں 142آسامیاں تخلیق کی جائیں گی جن پر کل 764.932ملین روپے کے اخراجات آئیں گے۔ اسی طرح محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن کے 182نئے سکولوں کے قیام کے لیے 259آسامیاں، موجودہ 653سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لیے 2692آسامیاں جبکہ موجودہ 200سکولوں میں 368آسامیاں تخلیق کی جائیں گی۔ ان آسامیوں کی تخلیق پر کل 2978.99ملین روپے کے اخراجات آئیں گے۔ آزادجموں وکشمیر ریگولائزیشن آف ایڈھاک و عارضی ملازمین ترمیمی ایکٹ 2026کے تحت سکیل بی۔01کے تمام ملازمین ماسوائے وہ ملازمین جن کی تقریوں پر عدالتوں کی جانب سے حکم امتناع ہیں کو مستقل کیا جا رہا ہے۔آزادجموں وکشمیر ماحولیاتی ٹربیونل ترمیمی ایکٹ2026پر کابینہ کو بریفنگ کے دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اسوقت ماحولیاتی ٹربیونل میں ایک چیئرمین اور دو ممبران تعینات ہیں جبکہ ابھی تک اس ٹریبونل میں صرف 16 مقدمات ہیں جس پر کابینہ نے فیصلہ کیا کہ چیئرمین ماحولیاتی ٹربیونل کے اختیارات ڈسٹرکٹ وسیشن جج کو منتقل کر دئیے جائیں تاکہ ان آسامیوں پر اخراجات کی بجٹ ہو سکے جس پر کابینہ نے یہ اختیارت منتقل کرنے کی منظوری دیدی۔ اسی طرح کابینہ نے چیئرمین اپیلنٹ ٹربیونل ایم۔ڈی۔اے کے اختیارت بھی ڈسٹرکٹ وسیشن جج کو منتقل کرنے کے لیے ترمیمی ایکٹ 2026کی بھی منظوری دیدی۔الیکٹریسٹی ترمیمی ایکٹ کے تحت تعمیر ہونے والے 7.08میگا واٹ ہائیڈروپاور پراجیکٹ ضلع مظفرآباد پر کام کرنے والی پرائیویٹ کمپنی کو ٹرانسمیشن لائن بچھانے، بجلی کی ترسیل اور ارتھ کے ساتھ کنکشن کی اجازت کی سیکشن میں ترامیم کی گئی ہیں۔ قبل ازیں آزادکشمیر میں ہائیڈرل کے چار منصوبہ جات کو پہلے ہی یہ اجازت دی گئی ہے۔اسی طرح پبلک پریکورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی ایکٹ 2026کے تحت چیئرمین کے علاوہ پیپرا کا دیگر مستقل سٹاف تعینات کیا جائے گا جبکہ فیڈرل پیپرل کی طرز پر کنسلٹنٹ اورایکسپرٹ کی سروسز ضرورت کے تحت حاصل کی جس سکیں گی۔کابینہ نے شہید پیکج میں بھی اضافے کی منظوری دیدی جس کے تحت شہد اور انکے ورثا کو پنجاب طرز پر حکومت کی جانب سے اعزازیہ دیا جائیگا۔آزادکشمیر میں ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ الائیڈ سٹاف کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے الائیڈ ہیلتھ کے ادارے بہت کم ہیں اس کمی کو دور کرنے کے لیے کابینہ نے میرپور انسٹیٹویٹ آف میڈیکل سائنسز کو اپ گریڈ کرتے ہوئے میرپور یورنیورسٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز کا درجہ دینے کی بھی منظوری دیدی جو بی۔ایس پروگرام کے ساتھ اب دیگر پروفیشنل پروگرام بھی شروع کرسکے گی۔آزادجموں وکشمیر لیگل پریکٹیشنرز وبار کونسل ترمیمی ایکٹ 1995میں ترامیم سے ممبران بار کونسل کی تعداد 4انتخابات تک فکس کرنے کے علاوہ بار کونسل کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی گرانٹ کے آڈٹ کا اختیار آڈیٹر جنرل کو تفویض کیا جا رہا ہے۔کابینہ نے یونیورسٹی آف آزادجموں وکشمیر مظفرآباد کے لیے 1042.676ملین روپے اور باغ یونیورسٹی کے لیے 188.883ملین روپے بطور ون ٹائم گرانٹ کی بھی منظوری دی جبکہ وویمن یونیورسٹی جہاں پہلے صرف لڑکیوں کو تعلیم دی جاتی تھی اب آزاد جموں و کشمیر وویمن یونیوسٹی باغ ترمیمی ایکٹ 2026کے تحت اس یونیورسٹی کا سٹیٹس تبدیل کرتے ہوئے اسکا بوائز کیمپس بھی قائم کیا جا رہا ہے۔مختلف اداروں میں تعینات لائبریرین کو ترقیابی کے مواقع نہ ہونے کیوجہ سے انکے لیے چار درجاتی فارمولہ کے تحت ترقیابی کے سروس سٹرکچر کی بھی منظوری دیدی گئی جس سے لائیریرین جو کئی سالوں سے ایک ہی سکیل میں کام کر رہے تھے کو ترقیابی کے مواقع میسر آئیں گے اسی طرح کابینہ نے انسپکٹر تجاوزت کو سکیل بی۔1سے اپ گریڈ کر کے بی۔15کر دیاگیاہے۔اسی طرح نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ترمیمی ایکٹ2026 کے تحت نادرا کوقانونی تحفظ دئیے جانے کی ترامیم بھی کابینہ نے متفقہ طور پر منظور کر لیں۔ آزادجموں وکشمیر فوڈ اتھارٹی ترمیمی ایکٹ کے تحت اب ڈائریکٹر کی جگہ ڈائریکٹر جنرل خوراک بطور سیکرٹری فوڈ اتھارٹی فرائض سرانجام دیں گے اسی طرح تجوید القرآن ٹرسٹ ترمیمی ایکٹ 2026کے تحت مدارس میں ریفارمز، قراہ حضرات کے اعزازیہ کے علاوہ ایک کوآڈینیٹر کی آسامی تخلیق کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ بجٹ کی تیاری اور دیگر اہم امور کی انجام دہی کے لیے جمعہ کی چھٹی منسوخ کی جارہی ہے جس سے کابینہ اراکین نے اتفاق کیا اس طرح کل سے آزادکشمیر کے تمام دفاتر میں جمعہ کی چھٹی منسوخ کر دی گئی جبکہ تعلیمی اداروں میں ہفتہ کی تعطیل بدستور جار ی رہے گی۔آزادجموں وکشمیر کابینہ نے خالصہ اراضی برائے مسجد شریف اہلیان منگپور خواص تحصیل چڑھوئی ضلع کوٹلی، خالصہ سرکاربرائے تعمیر گورنمنٹ بوائز انٹر کالج محکمہ ہائیر ایجوکیشن بارل سدھنوتی، خالصہ سرکار بحق محکمہ ہائیر ایجوکیشن برائے گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ایوی گلی واقع موضع بھالینی تحصیل ہجیرہ ضلع پونچھ، خالصہ سرکار اراضی برائے قبرستان اہلیان پونے موضع پساری تحصیل وضلع باغ، اراضی خالصہ سرکاری برائے تعمیر آفیسر کالونی کہوٹہ تحصیل حوضلع حویلی، اراضی خالصہ سرکاری برائے قیام دانش سکول موضع لوئیاں تحصیل ممتاز آباد ضلع حویلی، اراضی خالصہ سرکارقبرستان اہلیان دیہہ خالق آباد واقع موضع ڈھیری رستم تحصیل اسلام گڑھ ضلع میرپور، اراضی خالصہ سرکار بحق محکمہ ایلیمینٹری اینڈ سیکینڈی ایجوکیشن برائے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گہل ٹوپی جنوبی تحصیل وضلع باغ اور خالصہ سرکار برائے قیام یونیورسٹی آف حویلی کہوٹہ واقع موضع لوئیاں لگدار تحصیل ممتاز آباد ضلع حویلی کی بھی منظوری کا معاملہ اگلے اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *